امریکہ نے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہوئے اپنی
شکست تسلیم کی ہے۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے حوالے سے شدید غلط فہمی کا شکار رہے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ دباؤ، پابندیوں اور طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران کو کمزور کیا جا سکتا ہے، مگر حالات نے ان کے اس اندازے کو غلط ثابت کر دیا۔
ایران نے جس حکمتِ عملی، صبر اور طاقت کا مظاہرہ کیا، اس نے امریکہ اور اسرائیل کے غرور کو توڑ دیا۔ یہ ایک واضح حقیقت کے طور پر سامنے آیا کہ ایران نے نہ صرف ان کی پالیسیوں کو ناکام بنایا بلکہ انہیں عملی طور پر پسپائی اور تباہی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی قوتوں کو کمزور سمجھنا اور اپنی طاقت کے زعم میں فیصلے مسلط کرنا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو اب اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب طاقت کے بجائے انصاف، خودمختاری اور برابری کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ بصورتِ دیگر ایسی غلط فہمیاں خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائیں گی



