حافظ نعیم الرحمن اور کامران ٹیسوری کا مکالمہ: سیاست، طنز اور برداشت کی ایک زندہ مثال

مکالمے کا وہ لمحہ: جب سوال پلٹ کر آیا

بلاگ : فرید رزاقی

حافظ نعیم الرحمن اور کامران ٹیسوری کا مکالمہ: سیاست، طنز اور برداشت کی ایک زندہ مثال

کراچی کی سیاست: مسائل کا شہر یا بیانات کا میدان؟

کراچی محض ایک شہر نہیں، یہ ایک مکمل سیاسی تجربہ گاہ ہے۔ یہاں بجلی کا بریک ڈاؤن ہو تو سیاست، پانی کی لائن لیک ہو تو سیاست، سڑک ٹوٹ جائے تو سیاست،گویا شہر سانس بھی لے تو اس میں سیاست شامل ہوتی ہے۔ ایسے شہر میں اگر دو بڑے سیاسی کردار آمنے سامنے بیٹھ جائیں تو وہ ملاقات عام نہیں رہتی، وہ ایک منظر بن جاتی ہے، ایک اسٹیج ڈرامہ جس کے مکالمے سننے کے لیے عوام کان لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن، جنہیں ان کے حامی “شہر کا وکیل” کہتے ہیں، پچھلے چند برسوں میں کراچی کے مسائل کو سڑکوں سے ایوانوں تک لے کر گئے۔ دھرنے، احتجاج، پریس کانفرنسیں—ان کا سیاسی انداز سیدھا اور دو ٹوک رہا ہے۔ دوسری طرف کامران ٹیسوری، جو گورنر سندھ کے منصب پر فائز ہیں، نسبتاً نرم لب و لہجے اور عوامی میل جول کی سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔ گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دینا، نوجوانوں کے لیے اقدامات کا اعلان کرنا،یہ ان کی شناخت بن چکا ہے۔

جب یہ دونوں شخصیات ایک میز پر بیٹھیں تو سوال صرف اتنا نہیں تھا کہ کون کیا کہے گا، بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ کون کس انداز میں کہے گا۔

ملاقات کا ماحول: رسمی نشست یا شطرنج کی بساط؟

شروع میں رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا۔ شکریہ، خیرمقدم، تعاون کی باتیں۔ مگر یہ سب ویسا ہی تھا جیسے بارش سے پہلے ہلکی ہوا چلتی ہے۔ اصل طوفان ابھی آنا تھا۔

حافظ نعیم الرحمن کا انداز شروع ہی سے پراعتماد تھا۔ وہ سوال اٹھاتے، مسئلہ گنواتے، اور پھر توقف کر کے جواب کا انتظار کرتے۔ دوسری طرف کامران ٹیسوری ہر نکتے پر وضاحت دیتے، کبھی وعدہ کرتے، کبھی تعاون کی یقین دہانی کراتے۔ اگر اسے شطرنج کی بازی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک چال چلتا، دوسرا سوچ سمجھ کر جواب دیتا۔

فرق بس یہ تھا کہ یہاں مہرے عوامی مسائل تھے۔ بجلی، پانی، بلدیاتی اختیارات اور شہری سہولیات۔

دفاعی پوزیشن اور جارحانہ انداز: سیاسی ذہانت کی جھلک

مکالمے کے دوران واضح محسوس ہو رہا تھا کہ کامران ٹیسوری دفاعی پوزیشن میں زیادہ نظر آ رہے تھے۔ وجہ بھی صاف تھی۔ وہ حکومتی نمائندہ تھے، اور شہر کے مسائل کا بوجھ براہِ راست ان کے کندھوں پر آتا تھا۔ جب بھی کوئی مسئلہ زیر بحث آتا، نگاہیں انہی کی طرف اٹھتیں۔

اس کے برعکس حافظ نعیم الرحمن ایک قدرے ایگریسیو پوزیشن پر براجمان تھے۔ ان کے لہجے میں کاٹ تھی، مگر بے ادبی نہیں تھی۔ وہ سوال اٹھاتے تو یوں لگتا جیسے عدالت میں وکیل جرح کر رہا ہو، منظم، مربوط اور براہِ راست۔

لیکن پھر آیا وہ لمحہ جس نے پوری نشست کو یادگار بنا دیا۔

“جماعت اسلامی کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے؟” — اور جواب جو گونج بن گیا

گورنر کامران ٹیسوری نے مسکراتے ہوئے ایک جملہ کہا:

“آئیں مل کر یہ بھی سوچتے ہیں کہ جماعت اسلامی کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے؟”

یہ جملہ بظاہر ہلکا سا طنزیہ تھا، جیسے سیاسی محفل میں دوستانہ چٹکی لی جائے۔ شاید ان کا مقصد ماحول کو ذرا ہلکا کرنا تھا، یا شاید وہ ایک سیاسی پوائنٹ اسکور کرنا چاہتے تھے۔

مگر حافظ نعیم الرحمن نے یہ گیند وہیں واپس نہیں کی، بلکہ سیدھی چھکا مار دیا۔

انہوں نے مائیک سنبھالا، ہال کی طرف رخ کیا، اور سوال اچھال دیا:

“آپ بتائیے، حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں کون جیتا تھا؟”

چند لمحوں کی خاموشی… اور پھر پورا ہال ایک آواز میں گونج اٹھا:

“جماعت اسلامی!”

وہ لمحہ واقعی دلچسپ تھا۔ جیسے فلم میں اچانک سین پلٹ جائے۔ گورنر صاحب کے چہرے پر ایک لمحے کا توقف آیا۔ مسکراہٹ برقرار تھی، مگر جواب کے لیے الفاظ شاید چند سیکنڈ دیر سے پہنچے۔

یہ سیاست کا وہ لمحہ تھا جہاں سوال پوچھنے والا خود سوال کے دائرے میں آ گیا۔

طنز، مزاح اور برداشت: ماحول کیوں نہیں بگڑا؟

اب یہاں اصل خوبصورتی یہ تھی کہ اتنی تیز بات کے باوجود ماحول خراب نہیں ہوا۔ نہ آوازیں بلند ہوئیں، نہ مائیک بند ہوا، نہ تلخی نے جگہ لی۔

مسکراہٹوں کے ساتھ تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ جیسے دو کھلاڑی سخت مقابلہ کر رہے ہوں مگر کھیل کے اصولوں کا احترام بھی کر رہے ہوں۔

یہی وہ انداز ہے جو پاکستانی سیاست میں کم نظر آتا ہے۔ ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ اختلاف فوراً دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ جلسوں میں سخت زبان، سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، اور کارکنان میں تصادم۔

مگر اس نشست نے ایک مختلف تصویر دکھائی،اختلاف ہو سکتا ہے، مگر عدم برداشت ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: میمز، تبصرے اور بحث

یہ مکالمہ ختم ہوا تو اصل شو سوشل میڈیا پر شروع ہوا۔ ٹوئٹر (ایکس) پر کلپس وائرل ہوئیں۔ کسی نے لکھا، “یہ ہوتا ہے برجستہ جواب!” کسی نے کہا، “گورنر صاحب کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔”

میمز بنیں۔ ایک تصویر میں حافظ نعیم کو شطرنج کا بادشاہ دکھایا گیا، اور دوسری میں گورنر صاحب کو حیران مہرہ۔ مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ زیادہ تر تبصروں میں تلخی کم اور مزاح زیادہ تھا۔

عوام نے اس مکالمے کو لڑائی نہیں بلکہ ایک دلچسپ سیاسی مقابلہ سمجھا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ نشست مثبت انداز میں یاد کی جا رہی ہے۔

سیاسی کارکنان کے لیے سبق: گریبان نہیں، دلیل پکڑیے

اس مکالمے کا سب سے بڑا فائدہ کیا تھا؟ سیاسی تربیت۔

جب کارکنان دیکھتے ہیں کہ ان کے قائدین سخت سوال بھی برداشت کر رہے ہیں اور تیز جواب بھی مسکرا کر سن رہے ہیں، تو وہ سیکھتے ہیں کہ سیاست کا مطلب صرف نعرے نہیں، دلیل بھی ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا،کیا ہم نے سیاست کو ذاتی جنگ بنا دیا ہے؟ کیا ہر اختلاف دشمنی ہے؟

اگر گورنر ہاؤس کے ہال میں بیٹھ کر دو مختلف سیاسی نظریات کے حامل رہنما ایک دوسرے کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں اور احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں، تو گلی محلے میں کیوں نہیں؟

پاکستان کو کیسی سیاست درکار ہے؟

پاکستان اس وقت جس سیاسی تقسیم کا شکار ہے، وہاں مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔ گریبان پکڑنے سے نہ پانی آئے گا، نہ بجلی سستی ہوگی، نہ سڑکیں بنیں گی۔

مکالمہ دروازے کھولتا ہے۔
چیخ و پکار دیواریں کھڑی کرتی ہے۔

یہ نشست اس بات کی یاد دہانی تھی کہ سیاست صرف جلسوں کی گرج نہیں، بلکہ دلیل کی روشنی بھی ہے۔

نتیجہ: اختلاف کو تہذیب کا لباس پہنا دیجیے

حافظ نعیم الرحمن اور کامران ٹیسوری کے درمیان یہ مکالمہ کسی بڑے معاہدے پر ختم نہیں ہوا، نہ کوئی فوری انقلابی اعلان ہوا۔ مگر اس نے ایک اہم پیغام ضرور دیا،بات کیجیے، مگر تہذیب کے ساتھ۔

سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے۔ مگر اس اختلاف کو برداشت، دلیل اور مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرنا اصل کمال ہے۔

اگر ہم اس طرز کو اپنالیں—ایوانوں سے لے کر سوشل میڈیا تک—تو شاید سیاسی درجہ حرارت خود بخود کم ہو جائے۔

اور شاید یہی وہ سیاست ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے:
جہاں سوال بھی ہوں، جواب بھی—اور دونوں کے درمیان احترام بھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top